Intro
اردو • Urdu

عنوان 7 ارتکازِ آبادی اور مظاہر قدرت

ناروے 18000 سال پہلے برف سے ڈھکا ہوا تھا۔ آہستہ آہستہ حرارت بڑھتی گئی، برف پگھلنے لگی اور تقریباً 11000 سال پہلے جرمنی سے انسان ہجرت کرتے ہوئے یہاں آئے۔ وہ زندہ رہنے کے لیے جانوروں کا شکار کرتے تھے۔ وہ پتھر کے اوزار بناتے اور جانوروں کی کھالوں سے کپڑے سيتے تھے۔ ہم اسے پتھر کا زمانہ کہتے ہیں۔

آہستہ آہستہ موسم گرم ہونے لگا اور بڑے جنگلات میں اضافہ ہوا۔ انسانوں نے کاشتکاری شروع کر دی اور مویشی پالنے شروع کر دئیے۔ انہوں نے دھاگہ بنانا سیکھا اور اون سے کپڑے بنائے۔ انہوں نے لوہے کے چاقو، کلہاڑیاں اور دوسرے آلات بنائے۔ وہ بڑے بڑے خاندانوں کی صورت میں ایک ساتھ اکھٹا رہتے تھے۔ دادا گاؤں کا سربراہ ہوتا تھا۔ ایک ایسا بڑا خاندان ایک قبیلہ کہلاتا تھا۔ قبیلے کے لوگ مل کر ایک دوسرے کا تحفظ اور مدد کرتے تھے۔ قبیلوں کے آپس میں جھگڑوں کو پنچائت یعنی تھنگ میں حل کیا جاتا تھا۔ کچھ قبیلے امیر اور طاقتور تھے ۔ وہ دوسرے يورپینوں سے کار و بار کرتے تھے۔

793 میں نارویجنون نے جنوبی انگلینڈ کے مشرقی ساحل پر واقع لنڈسفارن کی خانقاہ پر حملہ کیا ۔ یورپ کی تاریخ میں پہلی دفعہ نورڈن والوں نے اہم کردار سر انجام دیا تھا۔ سویڈش، ڈینیش اور نارویجن کے پاس اچھے بحری جہاز تھے اور وہ دور دراز سمندری سفر کرتے تھے۔ انہیں وائکنگ یعنی بحری قزاق کہا جاتا تھا۔ انہوں نے کاروبار کیا، لوٹ مارکی، لڑائیاں کیں اور غلام بنائے۔ وائکنگوں کا اپنا ایک مذہب تھا اور ان کے کئی خدا تھے۔ کئی وائکنگوں نے ناروے سے دیگر مقامات کا سفر کیا اور وہ وہیں آباد ہوگئے۔

©O. Væring Eftf. AS©O. Væring Eftf. AS

یہ ویب سائٹ نصابی کتاب کے عنوان 7 کا ضمیمہ ہے۔ آپ یہاں مندرجہ ذیل موضوعات کے متعلق مزید پڑھ سکتے ہیں :

  • ناروے تصویروں اور آواز میں
  • ذرائع آمد و رفت
  • سامی لوگ
  • تیل
  • عوامی حق رسائی
  • فراغت میں مچھلی کا شکار
  • ناروے میں عام جانور

Ansvarlig for disse sidene J.W. Cappelens Forlag AS. Læremidlet er utviklet med støtte fra Utdanningsdirektoratet. Tilbakemeldinger: intro@cappelen.no